آخرت کا حساب*

ایک شاگرد نے اپنے استاد سے پوچھا: استاد جی!
یہ آخرت میں حساب کتاب کیسے ہوگا؟

استاد نے ذرا سا توقف کیا، پھر اپنی جگہ سے اُٹھے
اور سارے شاگردوں میں کچھ پیسے بانٹے
انہوں نے پہلے لڑکے کو سو روپے،
دوسرے کو پچھتر،
تیسرے کو ساٹھ،
چوتھے کو پچاس،
پانچویں کو پچیس،
چھٹے کو دس،
ساتویں کو پانچ،
اور جس لڑکے نے سوال پوچھا تھا اسے فقط ایک روپیہ دیا۔

شاگرد بلاشبہ استاد کی اس حرکت پر دل گرفتہ اور ملول تھا، اسے اپنی توہین محسوس ہو رہی تھی کہ استاد نے آخر اسے سب سے کمتر اور کم مستحق کیونکر جانا؟

استاد نے مسکراتے ہوئے سب کو دیکھتے ہوئے کہا: سب لڑکوں کو چھٹی، تم سب لوگ جا کر ان پیسوں کو پورا پورا خرچ کرو، اب ہماری ملاقات ہفتے والے دن بستی کے نانبائی کے تنور پر ہوگی۔

ہفتے والے دن سارے طالبعلم نانبائی کے تنور پر پہنچ گئے، جہاں استاد پہلے سے ہی موجود سب کا انتظار کر رہا تھا۔ سب لڑکوں کے آ جانے کے بعد استاد نے انہیں بتایا کہ تم میں ہر ایک اس تنور پر چڑھ کر مجھے اپنے اپنے پیسوں کو کہاں خرچ کیا ہے کا حساب دے گا۔

پہلے والے لڑکے، جسے ایک سو روپے ملے تھے، کو دہکتے تنور کی منڈیر پر چڑھا کر استاد نے پوچھا؛ بتاؤ، میرے دیئے ہوئے سو روپے کیسے خرچ کیئے تھے۔

جلتے تنور سے نکلتے شعلوں کی تپش اور گرم منڈیر کی حدت سے پریشان لڑکا ایک پیر رکھتا اور دوسرا اٹھاتا، خرچ کیئے ہوئے پیسوں کو یاد کرتا اور بتاتا کہ: پانچ کا گڑ لیا تھا، دس کی چائے، بیس کے انگور، پاچ روپے کی روٹیاں۔۔۔۔ اور اسی طرح باقی کے خرچے۔ لڑکے کے پاؤں حدت سے جل رہے تھے تو باقی کا جسم تنور سے نکلتے شعلوں سے جھلس رہا تھا حتیٰ کہ اتنی سی دیر میں اسے پیاس بھی لگ گئی تھی اور الفاظ بھی لڑکھڑانا شروع۔ بمشکل حساب دیکر نیچے اترا۔

اس کے بعد دوسرا لڑکا، پھر تیسرا اور پھر اسی طرح باقی لڑکے،
حتی کہ اس لڑکے کی باری آن پہنچی جسے ایک روپیہ ملا تھا۔

استاد نے اسے بھی کہا کہ تم بھی تنور پر چھڑھ جاؤ اور اپنا حساب دو۔ لڑکا جلدی سے تنور پر چڑھا، بغیر کسی توقف کے بولا کہ میں نے ایک روپے کی گھر کیلئے دھنیا کی گڈی خریدی تھی، اور ساتھ ہی مسکراتا ہوا نیچے اتر کر استاد کے سامنے جا کر کھڑا ہو گیا، جبکہ باقی کے لڑکے ابھی تک نڈھال بیٹھے اپنے پیروں پر پانی ڈال کر ٹھنڈا کر رہے تھے۔

استاد نے سب لڑکوں کو متوجہ کر کے اس لڑکے کو خاص طور پر سناتے ہوئے کہا: بچو: یہ قیامت والے دن کے حساب کتاب کا ایک چھوٹا سا منظر نامہ تھا۔ ہر انسان سے، اس کو جس قدر عطا کیا گیا، کے برابر حساب ہوگا۔

لڑکے نے استاد کو محبت سے دیکھتے ہوئے کہا کہ: آپ نے جتنا کم مجھے دیا، اس پر مجھے رشک اور آپ کی عطا پر پیار آ رہا ہے۔ تاہم اللہ تبارک و تعالیٰ کی مثال تو بہت اعلٰی و ارفع ہے۔

اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں اپنے حساب کی شدت سے بچائے اور ہمارے ساتھ معافی اور درگزر والا معاملہ فرمائے۔ آمین

Advertisements

علم وفہم کا مقام

یہ مضمون علامہ اُسید الحق قادری بدایونی کی کتاب تحقیق وتفہیم سے پیش خدمت ہے۔

امام ابوبکر عبد اللہ بن محمد بن ابی شیبہ ابراہیم العبسی الکوفی (ولادت ۱۵۹ھ وفات ۲۳۵ھ) کا شمار متقدمین ائمہ حدیث میں ہوتاہے- آپ کی عدالت و ثقاہت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ امام بخاری، امام مسلم، امام ابن ماجہ اور امام ابوداؤد جیسے ائمہ حدیث نے آپ سے احادیث کی روایت کی ہے- آپ نے احادیث مبارکہ کا ایک عظیم مجموعہ مرتب کیا تھا جو علمی حلقوں میں ’’ مصنف ابن ابی شیبہ‘‘ کے نام سے مشہور ہے-

علمائے حدیث کی اصطلاح میں مصنف حدیث کی ایسی کتاب کو کہتے ہیں جس میں ابواب فقہ کی ترتیب پر احادیث جمع کی جائیں یا بالفاظ دیگر جس میں ’’ احادیث احکام‘‘ جمع کی جائیں- مصنف میں مرفوع احادیث کا التزام نہیں کیا جاتا بلکہ اس میں موصول، موقوف، مرسل اور منقطع احادیث بھی جمع کی جاتی ہیں- ساتھ ہی اس میں صحابہ کرام، تابعین اور تبع تابعین رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے اقوال و آراء اور فتاویٰ بھی شامل کیے جاتے ہیں ( اصول التخریج، ص:۱۱۸)

امام ابن ابی شیبہ رحمہ اللہ نے اپنی کتاب بھی اسی اصول کے تحت مرتب کی ہے- یہ کتاب ۷؍ جلدوں پر مشتمل ہے اور اس میں ۳۷۹۴۳ احادیث جمع کی گئی ہیں، مصنف ابن ابی شیبہ کے مختلف اجزاء مختلف ممالک سے شائع ہوتے رہے ہیں ۱۴۰۹ھ میں مکتبۃ الرشید الریاض (سعودی عرب ) نے شیخ کمال یوسف الحوت کی تحقیق و تعلیق کے ساتھ اس کی ساتوں جلدوں کو بڑے اہتمام سے شائع کیا ہے، مکتبۃ الرشید کا یہی نسخہ اس وقت ہمارے پیش نظر ہے-

ساتویں جلد میں امام ابن ابی شیبہ رحمہ اللہ نے ایک مستقل باب امام الائمہ امام اعظم سیدنا الامام ابو حنیفۃ النعمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے رد کے لیے مخصوص فرمایا ہے – اس باب کا عنوان ہے ’’ ھٰذا ما خالف بہ ابو حنیفہ الاثرالذی جاء عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ ( ان مسائل کا بیان جن میں ابو حنیفہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے خلاف رائے دی ہے) یہ باب ۴۸ صفحات (ص:۲۷۷ تا۳۲۵) پر مشتمل ہے- اس باب میں امام ابن ابی شیبہ نے ۱۲۵ مسائل فقہیہ کا ذکر کیا ہے جن میں (بقول ان کے) امام اعظم نے حدیث پاک کی مخالفت کی ہے- طریقۂ تالیف یہ ہے کہ وہ کسی ایک مسئلہ کے تحت چند احادیث ( جن میں موقوف و مرسل اور منقطع ہر قسم کی حدیثیں ہیں) ذکر کرتے ہیں اور آخر میں یہ ٹیپ کا بند ہوتا ہے کہ ’’ مگر ابوحنیفہ نے اس مسئلہ میں ایساکہا ہے‘‘

مصنف ابن ابی شیبہ کا یہ باب ’’ عاملین بالحدیث‘‘ کے لیے اپنے اندر بڑی کشش رکھتا ہے، شاید یہی وجہ ہے کہ اس باب کو تعلیقات و حواشی کے ساتھ مستقل کتابی شکل میں بھی شائع کیا جاتا رہا ہے-

امام ابن ابی شیبہ کی جلالت علمی اور محدثانہ بصیرت کے تمامتر اعتراف کے باوجود غیر جانبدار اور حقیقت پسند محققین کی رائے میں اس باب میں امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ انصاف نہیں کیا گیا-کیونکہ ان ۱۲۵ مسائل میں کچھ مسئلے ایسے ہیں جن میں امام اعظم کے پاس بھی حدیث ہے اور یہ حدیث امام ابن ابی شیبہ کی بیان کردہ حدیث کے مقابلہ میں بچند وجوہ قوی ہے، کچھ مسائل وہ ہیں جن میں فہم حدیث کا فرق ہے یعنی ان مسائل میں امام اعظم نے بھی اس حدیث کو پیش نظر رکھا ہے مگر اپنی خدا داد صلاحیتوں کی وجہ سے امام اعظم کی نظر حدیث کے جس گہرے اور دقیق مفہوم تک پہونچ گئی امام ابن ابی شیبہ کی نظر وہاں تک نہ پہونچ سکی- اور انہوں نے حدیث کے ظاہری مفہوم کو دیکھتے ہوئے امام اعظم پر حدیث کی مخالفت کا الزام لگادیا- کچھ مسائل ایسے ہیں جن میں حدیث قبول کرنے کی شرائط کا فرق ہے- یعنی کسی حدیث کو قبول کرنے کی جو شرائط امام اعظم کے پیش نظر تھیں وہ امام ابن ابی شیبہ کی بیان کردہ حدیث میں مفقود ہیں اسی لیے امام اعظم نے مسئلہ کی بنیاد ایسی احادیث پرر کھنے کی بجائے قرآن کریم کی کسی آیت کے عموم پر رکھی ہے- کچھ مسائل ایسے ہیں جن میں امام ابن ابی شیبہ نے امام اعظم کی طرف جو رائے منسوب کی ہے دراصل وہ نہ امام اعظم کی رائے ہے نہ آپ کے تلامذہ کی-

انہیں وجوہات کی بنیاد پر اہل علم نے امام ابن ابی شیبہ کے اس باب کو کوئی خاص اہمیت نہیں دی ہے- بلکہ احناف کے علاوہ بعض انصاف پسند شوافع نے بھی امام اعظم کا دفاع کرتے ہوئے امام ابن ابی شیبہ کا رد کیا ہے-

ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ ان ۱۲۵ مسائل میں ترک الجہر بالبسملہ، قرأۃ خلف الامام، رفع یدین، نقض الوضو بمس الذکر اور طلاق میں عورت کی رقیت و حریت کا اعتبار وغیرہ جیسے مسائل شامل نہیں ہیں جن میں عام طور پر احناف پر حدیث کی مخالفت کا الزام لگایا جاتا ہے- اس بات سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ امام ابن ابی شیبہ کو بھی اس بات کا اعتراف ہے کہ مذکورہ مسائل میں امام اعظم نے حدیث کی مخالفت نہیں کی ہے- کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو وہ ان ۱۲۵؍ مسائل میں مذکورہ بالامسائل کو ضرور شمار کرتے-

امام ابن ابی شیبہ کے رد میں حافظ محی الدین القرشی الحنفی نے ایک مستقل کتاب تحریر فرمائی تھی ’’ الدرالمنیفۃ فی الرد علی ابن ابی شیبہ عن ابی حنیفہ‘‘ اس کے علاوہ علامہ قاسم بن قطلوبنا الحنفی نے بھی اس باب کے رد میں کتاب لکھی تھی- مگر یہ دونوں کتابیں مفقود ہیں-

علامہ محمد بن یوسف الصالحی ( صاحب سیرت شامیہ) نے’’عقود الجمان فی مناقب ابی حنیفۃ النعمان‘‘ میں اجمالی طور پر امام ابن ابی شیبہ کا رد فرمایا ہے- یاد رہے کہ علامہ الصالحی شافعی المذہب تھے، عقودالجمان ہی سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اس باب کے رد میں ایک مستقل کتاب لکھنا شروع کی تھی- ابھی امام ابن ابی شیبہ کے بیان کردہ ۱۲۵؍ مسائل میں سے صرف ۲۰؍ مسائل پر ہی کلام ہوا تھا کہ دو جلدیں پوری ہوگئیں- پھر آپ اس تالیف کو موقوف کر کے سیرت شامیہ کی تکمیل میں مصروف ہوگئے خدا جانے یہ کتاب بعد میں مکمل ہوئی یا نہیں-؟

مصنف ابن ابی شیبہ کے اس مخصوص باب کے رد میں ایک جامع اور محققانہ کتاب امام زاہد بن الحسن الکوثری رحمۃ اللہ علیہ ( وفات ۱۳۷۱ھ) نے تصنیف فرمائی ہے، کتاب کا نام ہے ’’ النکت الطریفہ فی التحدث عن ردود ابن ابی شیبہ علی ابی حنیفۃ‘‘ یہ کتاب ہمارے پیش نظر ہے- کتاب پر گفتگو سے پہلے ہم صاحب کتاب کا مختصر اور اجمالی تعارف کرانا چاہتے ہیں-

امام زاہد الکوثری ترکی الاصل تھے اور عثمانی دار الخلافہ میں ایک معزز علمی عہدہ پر فائز تھے- سقوط خلافت کے بعد آپ قاہرہ تشریف لے آئے اور آخر عمر تک یہیں قیام پذیر رہے- آپ کے علم و فضل کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آپ کے معاصرین میں دونابغۂ روزگار شخصیات امام محمد ابو زہرہ اور محد ث العصر امام عبد اللہ صدیق الغماری علیہما الرحمۃ نے آپ کے وسیع علم، دقت نظر اور صلاح و تقویٰ کا برملا اعتراف کیا ہے، ان دونوں حضرات کا اعتراف علم و فضل بجائے خود ایک سند کی حیثیت رکھتا ہے- یہاں یہ بھی یاد رہے کہ مذکورہ دونوں حضرات کا بہت سے مسائل میں امام کوثری سے علمی اختلاف تھا- حدیث، فقہ اور اصول فقہ آپ کا خاص میدان تھا- بالخصوص فقہ حنفی پر آپ کی بہت گہری نظر تھی- فقہ حنفی کی ترویج و اشاعت اور اس کے دفاع میں آپ کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جاسکتا- غالباً اسی وجہ سے بعض حضرات نے آپ کا موازنہ علامہ شامی سے کیا ہے- اس بات کو اگر عقیدت مندانہ مبالغہ مان لیا جائے پھر بھی اتنا ضرور ہے کہ علامہ کوثری کے بعد عالم اسلام میں ان کے پایہ کاکوئی فقہ حنفی کا عالم نظر نہیں آتا، آپ نے تصانیف کا ایک بڑا ذخیرہ امت اسلامیہ کو دیا جس میں زیادہ تر کتابیں فقہی موضوعات، فقہ حنفی اور علماے احناف کے دفاع میںہیں، بعض لوگوں کو آپ کے قلم سے تشدد آمیز اور جارحانہ اسلوب کا گلہ ہے- جو کسی حد تک درست بھی ہے کیونکہ جب آپ کا قلم احناف کے دفاع میں اٹھتا ہے تو پھر اس کے سامنے امام الحرمین الجوینی ہوں یا پھر حافظ ابن حجر عسقلانی اس کی پرواہ کیے بغیر ’’کلک کوثری خنجر خونخوار برق بار‘‘ نظر آتا ہے، اسی وجہ سے آپ کے بعض معاصرین نے آپ کو مجنون ابی حنیفہ ( ابو حنیفہ کا دیوانہ) کا لقب دیا تھا-

النکت الطریفہ آپ کی معرکۃ الآرا کتاب ہے اس میں آپ نے امام ابن ابی شیبہ کے اعتراضات کا عالمامانہ اور محققانہ جواب دیا ہے- اس کتاب کے مقدمہ سے چند اہم باتیں ہم ہدیۂ ناظرین کرنا چاہتے ہیں-

امام الکوثری فرماتے ہیں کہ امام ابن ابی شیبہ کے بیان کردہ ان ۱۲۵؍ مسائل کا جب علمی و تحقیقی جائزہ لیا گیا تو ہم اس نتیجہ پر پہونچے کہ ہم ان مسائل کو دو حصوں میں تقسیم کریں گے-
(۱) پہلے حصے میں وہ مسائل ہیں جن میں مختلف احادیث موجود ہیں، اب کسی مجتہد نے ایک حدیث لی ہے کسی نے دوسری کو اختیار کیا ہے، کیونکہ حدیث کو قبول کرنے کی شرائط اور وجوہ ترجیح ہر مجتہد کی الگ الگ ہیں- لہٰذا کسی مجتہد پر یہ الزام نہیں لگایا جاسکتا کہ اس نے صریح حدیث کی مخالفت کی ہے-
(۲) ان مسائل کے دوسرے حصہ کو ہم پانچ حصوں میں تقسیم کریں گے ( الف) یہ وہ مسائل ہیں جن میں امام اعظم نے خبر واحد کو ترک کر کے نص قرآنی پر فتویٰ دیا ہے-
(ب) بعض وہ مسائل ہیں جن میں خبر مشہور اور غیر مشہور دونوں تھیں آپنے خبر مشہور کو اختیار کیا ہے-
(ج) بعض مسائل میں فہم حدیث کا فرق ہے اور یہی وہ مسائل ہیں جن میں امام اعظم کی دقت نظر آشکارا ہوتی ہے جو انہیں کا حصہ ہے-
(د) امام ابن ابی شیبہ نے جو رائے امام اعظم کی طرف منسوب کی ہے وہ آپ کی رائے نہیں ہے جس پر ہمارے اصحاب کی کتب شاہد ہیں
(ہ) اس آخری حصہ کو ہم برسبیل تنزل یہ مان لیتے ہیں کہ ان مسائل میں امام اعظم سے سہو ہوا ہے- یہ صرف ۱۲ یا ۱۳ مسائل ہوتے ہیں-

پھر فرماتے ہیں کہ اگر بالفرض محال تھوڑی دیر کو یہ مان لیا جائے کہ امام ابن ابی شیبہکے بیان کردہ ان ایک سو پچیس مسائل میں سب میں امام اعظم سے سہو ہوا ہے، تو اس پر ہم عرض کریں گے کہ ایک روایت کے مطابق امام صاحب نے ۸۳؍ ہزار مسائل کا استخراج فرمایا تھا اب اگر ۸۳؍ ہزار کو ۱۲۵ پر تقسیم کیا جائے تو معلوم ہوگا ۶۶۴ مسائل میں صرف ایک مسئلہ میں آپ سے سہو ہوا اور یہ کوئی عیب نہیں ہے- جب کہ دوسری روایت یہ ہے کہ امام اعظم نے ۵؍ لاکھ مسائل کا استخراج و استنباط فرمایا تھا اس روایت کے مطابق ۴۰۰۰ مسائل میں سے صرف ایک مسئلہ میں آپ سے سہو ہوا- عنایہ شرح ہدایہ کے مصنف کی تحقیق کے مطابق امام اعظم نے ۱۲؍ لاکھ ۷۰؍ ہزار مسائل کا استخراج فرمایا- اس کے حساب سے ۱۰۱۶۰؍ مسائل میں سے صرف ایک میں آپ سے سہو ہوا- ان تین میں سے آپ کسی بھی روایت کو لیں آپ کو معلوم ہوگا کہ اصل تعداد کے مقابلہ میں خطاء وسہو کی نسبت کتنی کم ہے- اور یہ ایسی بات ہے کہ کسی بھی غیر معصوم سے اس کی توقع کی جاسکتی ہے- اور یہ بھی ہم نے برسبیل تنزل فرض کیا ہے ورنہ ان ۱۲۵ مسائل میں امام اعظم سے سہو نہیں ہوا بلکہ امام ابن ابی شیبہ امام اعظم کی دلیل کو نہ پہونچ سکے اور امام اعظم پر حدیث کی مخالفت کرنے کا الزام لگادیا-

مقدمہ کے بعد امام الکوثری نے اصل بحث کا آغاز فرمایا ہے اور ان ۱۲۵ مسائل میں سے ہر مسئلہ پر الگ الگ بحث کی ہے- اور حق تو یہ ہے کہ تحقیق کا حق ادا کردیا ہے- میری ناقص رائے میں اگر امام کوثری کی کوئی اور کتاب نہ بھی ہوتی تو صرف یہی کتاب ان کی علمی عظمت کے ثبوت کے لیے کافی تھی- یہ کتاب تقریباً ۳۰۰ صفحات پر مشتمل ہے اس کو المکتبۃ الازہریہ للتراث نے شائع کیا ہے- یہ کتاب اس قابل ہے کہ اس کا اردو ترجمہ شائع کیا جائے بلکہ اس سے پہلے کہ مصنف ابن ابی شیبہ کے اس مخصوص باب کا ترجمہ بے سرو پا حواشی کے ساتھ اردو میں شائع کیا جائے، امام زاہد الکوثری کی اس معرکۃ الآرا کتاب النکت الطریفہ کا ترجمہ ہو جانا چاہئے …ع
مرد ے ازغیب بروں آید وکارے بکند
(جامِ نور ستمبر ۲۰۰۴ئ)

پان کیا ہے

* پان وہ واحد روحانی غذا ہے جو اللہ کی پیدا کردہ قدرتی حالت میں کھائی جاتی ہے*

*پان وہ دولت ہے جس کی محبت بالخصوص اللہ والوں کے دلوں میں فطرتاً ڈال دی گئی ہے*

*پان ہی وہ عظیم شے ہے جس کو کھانے سے انسان کے اندر ناقابل بیان چستی وپھرتی آجاتی ہے*

*پان ہی وہ واحد نعمت ہے جو ہرے جنّتی رنگ کی ہوتی ہے اور انسانی منہ میں جاکر گہرے سرخ رنگ میں تبدیل ہوکر اپنی رنگا رنگی کی دلکش مثال پیش کرتی ہے*

*پان ہی وہ آزاد غذا ہے جسے کھانے کے لیے آپ کو باقاعدہ دستر خوان اور بیٹھنے کی قطعا حاجت نہیں جسے آپ راستوں میں میدانوں میں بازاروں میں بس اڈوں پر ایرپورٹ پر باغات میں جنگلات میں نیز مسجد میں(فتاوی محمودیہ) گھر میں بلا تکلف کھاسکتے ہیں*

*پان ہی وہ لاجواب ولا ثانی غذا ہے جسے آپ چلتے پھرتے دوڑتے بھاگتے لیٹے بیٹھے سوتے جاگتے ہر حالت میں بآسانی کھاسکتے ہیں*

*پان کی فضیلت کے لیے یہ بات بہت کافی ہے کہ علامہ کشمیری جیسی شخصیت پان کی دلدادہ تھی*

*پان کی یہ کرامت پوری کائنات کےمشاہدے میں ہیکہ کسی بھی مضمون یا کتاب کو سمجھنے یا مشکل مسئلے کو حل کرنے یا پیچیدہ موضوع سلجھانے کے لیے پان سے زیادہ مؤثر معجون آج تک دریافت نہ ہوسکا ہے*

*پان تصنیف و تالیف میں معاون ترتیب و تدوین میں ساجھی ترجمہ و تحقیق میں ایک عظیم وتازہ دم شہسوار کی حیثیت رکھتا ہے*

*پان کا پتہ کینسر کو روکتا ہے چہرے کو تروتازہ رکھتا ہے دانتوں کو مضبوط مسوڑوں کو قوت بخشتا ہے منہ کے جراثیم کے لیے زہر قاتل ہے*

*پان کے اندر استعمال ہونے والا چونا انسان کے اندر کیلشیم آئرن پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ گلے اور پیٹ کی بیماریوں سے نجات دلانے کی بھر پور صلاحیت رکھتا ہے*

*پان میں کھایا جانے والا زردہ خوشبودار چاندی کے ٹکڑوں سے معمور ذہنی سکون سے مخمور مردانہ قوت کا امین منہ کی بدبو کا دشمن دانت کے کیڑوں سے حفاظت کا ایک شاندارنمونہ ہے*

الغرض پان وہ خدائی انعام وربانی دولت ہے جس سے اہل علم و دانش اہل دل و ذکر، اصحاب تقوی وورع، ارباب تحقیق و فتوی،مردان خداعلماء،صلحاء
اور *نوجوانان ذوق سلیم* بہرہ ور ہیں